18 اکتوبر 2010 - 20:30

ہندوستان میں آج آزادی کا چونسٹھواں جشن منایا جارہا ہے اس موقع پر وزیراعظم ہندوستان منموہن سنگھ نے دہلی کے تاریخی لال قلعہ سے قوم کو خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم سب کومل کرایک جدید اورترقی یافتہ ہندوستان بنانا ہے ۔

انھوں نے کہا کہ ہم نئے ہندوستان کی تعمیر کررہے ہيں جس میں ہندوستان کے تمام شہریوں کی برابرکی شراکت اورحصہ داری ہوگی انھوں نے جہاں موجودہ ترقیاتی شرح اورخارجہ پالیسی کے میدان میں ہندوستان کے مقام ومرتبہ کی بات دوہرائی وہيں ایک ایسی تلخ حقیقت کی طرف بھی اشارہ کیا ہے جس کا ہندوستان کی معاشرے کو آزادی کے بعد سے ہی سامنا ہے ۔ہندوستان کے وزیراعظم نے کہا کہ اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت حکومت کی ذمہ داری ہے اس میں شک نہيں کہ دنیا کی کسی بھی حکومت کی اولین ذمہ داری یہی ہوتی ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے جان ومال اورحقوق کی حفاظت وپاسداری کرے حکومت کی ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ وہ ہرطرح کے نظریات سے بالا تر ہوکرملک کے ایک ایک شہری کے حقوق کی حفاظت کرے مگر اس ستم ظریفی کے بارے میں کیا کہا جائے کہ آج ہندوستان کے معاشرے میں کہ جس ملک کودنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے کا بھی اعزازحاصل ہے اقلیتوں اورخاص طورپر مسلمانوں کوجنھیں ملک کی دوسری سب سے بڑی اکثریت کہنا چاہئے برابرکے حقوق حاصل نہيں ہيں نہ صرف یہ کہ برابر کے حقوق حاصل نہيں ہیں بلکہ مسلمانوں کے حقوق پائمال بھی کئے جارہے ہيں ۔ تعلیم رفاہ اورروزگارکے مواقع میں حصہ داری کا جب معاملہ سامنے آتا ہے تو یہ ساری باتیں کھل کرسامنے آتی ہيں اورتو اورہندوستان کے نیشنل مائنارٹی کمیشن نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں یہاں تک کہہ دیا ہے کہ سرکاری بینکوں میں مسلمانوں کو اپنے اکاؤنٹ کھولوانے اوربینکوں سے قرضے سے لینے میں تفریق آمیزرویوں کا سامنا ہے گذشتہ برس سے لے کراب تک بہت سی شکایتيں موصول ہوئی ہيں جن میں کہا گیا ہے کہ بینک مسلمانوں کے اکاؤنٹ نہيں کھول رہے ہيں ۔ ان تمام تلخ حقیقتوں کے پیش نظر جب مسائل پراحتجاج کیا گیا تو سچرکمیٹی کی تشکیل ہوئی جس نے اپنی رپورٹ میں مسلمانوں کی حالت زار کی تصویر کشی ہے وہ سب کے لئے آنکھ کھول دینے کے لئے کافی تھی اور ترسٹھ برس سے پسماندگی اورامتیازی سلوک کا شکار چلے آرہے مسلمانوں اوراقلیتوں کے لئے مساوی حقوق کی فراہمی کے لئے سرانجام ایک مساوی حقوق کمیشن کی تشکیل کی منظوری دے دی گئی لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ مساوی حقوق کمیشن کی تشکیل کی مل گئی ہے لیکن اس کے اختیارات بہت ہی محدود کردئےگئے ہیں ۔اس کے علاوہ گذشتہ چند برسوں سے خاص طورپر گیارہ ستمبرکے واقعات کے بعد سے ہندوستان کے مسلمانوں کودہشت گردی کے الزام کے تحت اپنے اندر ایک طرح کےعدم تحفظ کا احساس کھائے جارہا ہے اوربہت سے مبصرین اورنظریہ پردازوں کا کہنا ہے کہ ٹھوس ثبوت وشواہد سے یہ بات ثابت ہے کہ مسلم نوجوانوں کوبعض عناصر کی طرف سے جان بوجھ کردہشت گردی سے جوڑ کرملک میں فرقہ وارانہ منافرت کوہوا دینے کی کوشش کی جارہی ہے بہرحال آج منمہوہن سنگھ کا یہ بیان کہ اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت حکومت کی ذمہ داری ہے بہت ہی اچھا اورذمہ دارانہ بیان ہے مگراس پر کتنا عمل ہوسکے گا اس کا جواب تو وقت ہی دے گا ۔

.......

/110